– خاموش محنت کی کہانی
وہ شخص جسے اپنا مقصد مل گیا
آج ہم ایک ایسے شخص کی بات کرتے ہیں جس نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی کام مکمل نہیں کیا۔
وہ ہر کام ادھورا چھوڑ دیتا تھا۔ اسکول — ادھورا۔ نوکری — ادھوری۔ گھر کی ذمہ داریاں — ادھوری۔ ایسا لگتا تھا جیسے اس کا کسی چیز میں دل ہی نہیں لگتا۔ نہ اس کا کوئی دوست تھا، نہ کوئی محبت۔ آہستہ آہستہ وہ اپنے گھر والوں پر بوجھ بنتا جا رہا تھا۔
اس کا نام سکندر تھا۔
وہ ایک چھوٹے سے گاؤں کا لڑکا تھا، ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ اکثر اپنے وجود پر سوال اٹھاتا تھا۔ وہ سوچتا:
"اگر میں کچھ کر ہی نہیں سکتا تو میں پیدا ہی کیوں ہوا؟ شاید میرا کوئی مقصد ہی نہیں۔"
وہ نوکری کرتا، دو یا تین مہینے بعد چھوڑ دیتا اور واپس گھر آ جاتا۔ زیادہ تر وقت لیٹے لیٹے یہی سوچتا رہتا کہ شاید اگر وہ مر جائے تو بہتر ہو۔
ایک دن وہ روزگار کی تلاش میں پردیس چلا گیا۔ اور وہیں سے اس کی زندگی بدل گئی۔
ایک رات وہ دوسرے مزدوروں کے ساتھ کمرے میں سو رہا تھا کہ اچانک گیس لیک ہو گئی۔ سب بے ہوش ہو گئے۔ سیکیورٹی گارڈ کو گیس کی بو محسوس ہوئی تو اس نے سب کو فوراً ہسپتال پہنچایا۔ باقی لوگ راستے میں ہی سنبھل گئے، مگر سکندر کی حالت بہت نازک تھی۔
ڈاکٹر نے کہا کہ اس کے بچنے کے امکانات صرف 0.1 فیصد ہیں۔
مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
وہ بچ گیا۔
کئی ہفتوں تک اسے چکر آتے رہے کیونکہ گیس کا اثر اس کے دماغ پر ہوا تھا۔ دو سے تین ہفتوں بعد وہ آہستہ آہستہ ٹھیک ہو گیا۔ اسی دوران اسے ایک گہرا احساس ہوا:
"اگر میں اتنے کم چانس کے باوجود زندہ بچ گیا ہوں… تو یقیناً میری زندگی کا کوئی مقصد ہے۔"
اسی دن اس نے فیصلہ کر لیا۔
اس کا مقصد صاف تھا:
وہ اپنے گھر سے غربت ختم کرے گا۔
وہ پیسہ کمائے گا۔
وہ اپنے ماں باپ کو بادشاہوں کی طرح زندگی دے گا۔
اس لمحے سے زندگی اسے خوبصورت لگنے لگی، کیونکہ اب اسے اپنا مقصد مل چکا تھا۔
اس نے بارہ گھنٹے والی کم تنخواہ کی نوکری چھوڑ دی جہاں وہ صرف 20 ہزار کماتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اس کے خواب اس تنخواہ سے بڑے ہیں۔ اس نے کاروبار شروع کرنے کا سوچا، مگر گھر میں سرمایہ نہیں تھا۔
تب اس نے ایک اور منصوبہ بنایا۔
دن میں وہ مزدوری کرتا۔
اور رات کو چپکے سے آن لائن ہنر سیکھتا۔
گھر والوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ راتوں کو کیا کرتا ہے۔
پہلے اس نے ٹریڈنگ سیکھی۔
پھر بلاگنگ۔
پھر رائٹنگ۔
دن کی کمائی سے اس نے ٹریڈنگ شروع کی۔ آہستہ آہستہ اس نے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ لگایا اور اپنا کاروبار بڑھاتا گیا۔ چار سال اسی طرح گزر گئے
گھر والوں کی نظر یں وہ
part 2

Comments
Post a Comment