محبت کے لیے ہر حد تک جانے والا شخص
محبت کے لیے ہر حد تک جانے والا شخص
آج ہم ایک ایسے شخص کی بات کرتے ہیں جو اپنی محبت کو حاصل کرنے کے لیے ہر حد تک جا سکتا تھا۔
ایک لڑکا تھا جس کا نام سکندر تھا۔ وہ بہت ضدی تھا اور اپنی مرضی کا مالک تھا۔ اسے کوئی زبردستی کچھ نہیں کروا سکتا تھا۔ وہ اتنا مضبوط مزاج کا تھا کہ نہ کوئی اسے آسانی سے ہرا سکتا تھا اور نہ ہی اپنی بات منوا سکتا تھا۔
اس کی زندگی میں کسی کی نقالی یا کسی کی پرواہ کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ ہاں، وہ بڑوں کی عزت کرتا تھا اور بچوں سے بہت محبت کرتا تھا۔ لیکن باقی لوگوں کی نہ سنتا تھا اور نہ کسی کو مانتا تھا۔ اس کا رویہ بہت سخت تھا، اسی لیے اس کے رشتہ داروں سے بھی زیادہ بنتی نہیں تھی۔
ایسی ہی اس کی زندگی گزر رہی تھی۔
ایک دن سکندر اپنے ایک دوست کی شادی میں گیا۔
وہیں اس کی زندگی میں ایک لڑکی کا داخلہ ہوا جس کا نام سویرا تھا۔
سویرا بہت خوبصورت تھی، نرم دل تھی اور اس کا رویہ سکندر سے بالکل مختلف تھا۔ وہ بہت مہذب اور خوش اخلاق تھی۔
جب سکندر نے اسے پہلی بار دیکھا تو وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ اچانک اس کے دل میں ایک عجیب سا احساس پیدا ہوا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔
وہ ہر وقت اسی کے بارے میں سوچنے لگا۔
وہ اپنے دل میں سوچتا: "مجھے آج تک کسی کے لیے ایسی فیلنگ کیوں نہیں آئی؟ یہ میرے ساتھ کیا ہو گیا ہے؟ میرے ذہن میں بار بار اسی کا چہرہ کیوں آ رہا ہے؟ آخر وہ ہے کون؟"
پھر ایک دن ان دونوں کی ملاقات ہوئی۔ سکندر کچھ بدلا بدلا سا لگ رہا تھا۔
اس کے دوستوں نے پوچھا: "تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم تو ایسے نہیں تھے۔"
تب سکندر نے انہیں سب کچھ بتا دیا۔
اس کے دوست ہنس کر بولے: "یار، تم تو اس سے محبت کرنے لگے ہو۔"
لیکن سکندر نے ماننے سے انکار کر دیا۔ اس نے کہا: "نہیں یار، میری زندگی الگ ہے۔ میری زندگی میں محبت کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ میں آئندہ اس کے بارے میں نہیں سوچوں گا۔"
یہ کہہ کر وہ وہاں سے اٹھ گیا۔
لیکن دوسری طرف سویرا کے دل میں بھی کچھ ہونے لگا تھا۔
وہ بھی سکندر کے بارے میں سوچنے لگی تھی۔
دونوں کی بات چیت شروع ہو گئی۔ دوست کی شادی میں ان کا رابطہ بنا تھا اور اس کے بعد وہ اکثر ایک دوسرے سے بات کرنے لگے۔ دونوں کو ایک دوسرے سے بات کر کے اچھا لگتا تھا۔
کچھ عرصے بعد سویرا کی شادی کہیں اور طے ہو گئی۔
یہ خبر سن کر سویرا نے سکندر سے کہا: "میری شادی طے ہو گئی ہے، لیکن میں تم سے محبت کرتی ہوں۔ اگر تم بھی مجھ سے محبت کرتے ہو تو بتاؤ۔"
یہ سن کر سکندر نے فوراً کہا: "مجھے بھی تم سے محبت ہو گئی ہے، لیکن میں ڈرتا تھا کہ کہیں تمہیں میری زندگی پسند نہ آئے اور تم مجھ سے بات کرنا بھی بند نہ کر دو۔ اسی ڈر سے میں نے کبھی بتایا نہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ I love you۔"
سویرا نے افسوس سے کہا: "لیکن اب ہم کیا کر سکتے ہیں؟ میری شادی طے ہو چکی ہے۔"
سکندر نے کہا: "تم انکار کر دو، میں اپنے گھر والوں کو رشتہ بھیجتا ہوں۔"
سکندر نے اپنے گھر والوں کو سویرا کے گھر رشتہ لے کر بھیجا، لیکن سویرا کے والد نے انکار کر دیا۔
انہوں نے کہا: "میں نے پہلے ہی اپنی زبان دے دی ہے، اب میں یہ رشتہ نہیں توڑ سکتا۔"
سویرا نے کہا: "اگر میری شادی سکندر سے نہ ہوئی تو میں جان دے دوں گی۔"
لیکن اس کے والد نے سختی سے کہا: "چاہے میں مر جاؤں، لیکن یہ شادی نہیں ہو سکتی۔"
یہ کہہ کر انہوں نے سکندر کو گھر سے نکال دیا۔
سکندر اپنی بے عزتی برداشت کر کے باہر آ گیا، لیکن اس نے دل میں عہد کیا:
"میں وعدہ کرتا ہوں کہ سویرا کی شادی کسی اور سے نہیں ہونے دوں گا۔"
پھر سکندر اس لڑکے کے پاس گیا جس سے سویرا کی شادی ہونے والی تھی۔ اس نے اسے ڈرا دھمکا کر اور مار پیٹ کر شادی سے انکار کرنے پر مجبور کر دیا۔
اس کے بعد جو بھی رشتہ آتا، سکندر اسے تڑوا دیتا۔
سکندر کی ان حرکتوں سے تنگ آ کر اس کے اپنے والدین نے بھی اسے گھر سے نکال دیا۔
لیکن سکندر نے ہار نہیں مانی۔ اس نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح سویرا کے والد کو راضی کر لے، مگر وہ نہیں مانے۔
آخر ایک دن سکندر نے ایک منصوبہ بنایا اور سویرا کو گھر سے لے گیا۔
پھر اس نے سویرا سے کہا کہ وہ اپنے والد سے بات کرے۔
سویرا نے فون پر کہا: "ابو، مجھے معاف کر دیں۔ ہم نے شادی کر لی ہے۔"
یہ سن کر اس کے والد رونے لگے اور کہا:
"تمہیں میری عزت کا ذرا بھی خیال نہیں آیا؟ تم نے مجھے جیتے جی مار دیا۔ میں تمہارا باپ تھا، دشمن نہیں۔ اگر ایک بار نہیں مانتا تو دس بار نہیں مانتا، لیکن کبھی نہ کبھی مان جاتا اور تمہاری شادی کر دیتا۔ لیکن تم نے میری عزت کا جنازہ نکال دیا۔"
یہی بات سکندر نے اپنے والد کو بھی بتائی تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔
تب سکندر نے کہا:
"ابو، ہم نے ابھی شادی نہیں کی۔ میں آپ کے بغیر شادی کیسے کر سکتا تھا؟ میں تو آپ کی عزت کی وجہ سے ہی نہیں بھاگا۔ ورنہ میں تو بہت پہلے شادی کر سکتا تھا۔ ہم نے یہ سب صرف اس لیے کیا تاکہ آپ مان جائیں۔"
پھر اس نے کہا:
"اب میں گھر آ رہا ہوں، آپ میرے ساتھ چلیں اور سویرا کے والد سے بات کریں۔"
سویرا نے بھی اپنے والد کو یہی بات بتائی۔
آخر کار دونوں خاندان مان گئے۔
اور اس طرح سکندر اور سویرا کی شادی ہو گئی۔

Comments
Post a Comment