غریب لکڑہارا اور راکشس

۔ غریب لکڑہارا اور راکشس یہ کہانی ہے ایک غریب آدمی کی جس کا نام سکندر تھا۔ سکندر جنگل کے قریب اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ روز جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور انہیں بیچ کر اپنے گھر کا خرچ چلاتا تھا۔ ایک دن کی بات ہے کہ ان کے گھر کا راشن بھی ختم ہونے والا تھا۔ سکندر بہت پریشان تھا۔ وہ بار بار سوچ رہا تھا کہ اب گھر کا نظام کیسے چلے گا۔ آخر ایک دن وہ اپنا خچر لے کر جنگل میں گیا تاکہ کچھ لکڑیاں کاٹ کر لائے اور گھر کا خرچ چلا سکے۔ لیکن اچانک اس کا خچر غلط راستے پر دوڑنے لگا۔ سکندر نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی مگر وہ نہیں رکا اور تیزی سے آگے ہی بڑھتا گیا۔ سکندر حیران ہو کر سوچنے لگا: "آج اسے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے پہلے کبھی ایسا نہیں کیا۔" وہ مجبوراً خچر کے اوپر بیٹھا رہا۔ کچھ دیر بعد وہ ایک شہر میں پہنچ گیا۔ لیکن وہ شہر عجیب سا لگ رہا تھا۔ سڑکوں پر گاڑیاں کھڑی تھیں، گھروں کے دروازے کھلے تھے، دکانیں بھی کھلی ہوئی تھیں، مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ پورے شہر میں ایک بھی انسان موجود نہیں تھا۔ یہ دیکھ کر سکندر بہت ڈر گیا۔ وہ سوچنے لگا: "یہ سب کیا ہو گیا؟ لوگ کہاں چلے گئے؟" اتنے میں اچانک ایک بہت خوفناک اور زور دار آواز سنائی دی۔ ایسی آواز اس نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں سنی تھی۔ ڈر کے مارے سکندر فوراً ایک گھر میں چھپ گیا اور اپنے خچر کو بھی اندر لے گیا۔ پھر وہ گھر کی بالکونی سے باہر جھانکنے لگا۔ اس نے دیکھا کہ گلی میں ایک خوفناک راکشس کھڑا ہے۔ اس کے منہ پر خون لگا ہوا تھا اور اس کے ہاتھ میں انسانی ہڈیاں تھیں۔ یہ منظر دیکھ کر سکندر سمجھ گیا کہ اس راکشس نے شہر کے تمام لوگوں کو مار دیا ہے اور اسی لیے پورا شہر خالی ہے۔ یہ سوچ کر سکندر نے ایک ترکیب سوچی۔ اس نے اپنے خچر کو گھر کے دروازے کے سامنے کھڑا کر دیا تاکہ راکشس اسے دیکھ کر گھر کے اندر آ جائے۔ جیسے ہی راکشس نے خچر کو دیکھا وہ اسے کھانے کے لیے گھر کے اندر آ گیا۔ اسی وقت دروازے کے پیچھے چھپا ہوا سکندر اپنی کلہاڑی لے کر نکلا اور پوری طاقت سے راکشس کی گردن پر وار کیا۔ ایک ہی وار میں اس نے راکشس کو مار دیا۔ راکشس کے مرنے کے بعد پورا شہر خالی ہو گیا تھا، اس لیے اب وہ شہر سکندر کا ہو گیا۔ سکندر نے وہاں سے کھانے پینے کی چیزیں اور ضروری سامان اٹھایا اور خوشی خوشی اپنے گھر واپس آ گیا۔ گھر پہنچ کر اس نے اپنی بیوی کو بتایا کہ آج وہ کچھ نیا لے کر آیا ہے۔ اس کی بیوی نے حیران ہو کر کہا: "کیا تم کوئی نیا درخت کاٹ کر لائے ہو؟" سکندر ہنس کر بولا: "نہیں پاگل! پہلے دیکھ تو لو۔" پھر اس نے اپنی بیوی اور بچوں کو پورا واقعہ سنایا۔ یہ سن کر سب بہت خوش ہوئے کیونکہ اب انہیں یقین ہو گیا تھا کہ آج کے بعد انہیں پیٹ بھر کر کھانا ملے گا اور ان کی ساری مشکلات ختم ہو جائیں گی۔ اس دن کے بعد سکندر جب بھی چاہتا اس شہر سے اپنی ضرورت کی چیزیں لے آتا۔ کچھ وقت بعد وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ اسی شہر میں خوشی خوشی رہنے لگا۔ سبق: مشکل حالات میں گھبرانے کے بجائے عقل اور ہمت سے کام لینا چاہیے۔ کیونکہ سمجھداری اور بہادری انسان کو بڑی سے بڑی مصیبت سے بھی بچا سکتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

The Story of Sk and KT

Silence, Struggle, Success –

The Last Human Programmer