Part 2– خاموش محنت کی کہانی

گھر والوں کی نظر میں وہ اب بھی ایک مزدور تھا۔ لیکن حقیقت میں سکندر ایک کامیاب بزنس مین بن چکا تھا۔ اس نے دن میں مزدوری کرتے ہوئے جو پیسہ کماتا، اسی سے رات کو آن لائن سکلز سیکھتا اور چھوٹے چھوٹے کاروباری تجربات کرتا رہا۔ چار سال کی محنت اور حکمت عملی کے بعد، اس نے اسٹاک مارکیٹ اور آن لائن بزنس میں سرمایہ کاری کی اور اپنا کاروبار آہستہ آہستہ بڑھایا۔ اب وہ صرف مزدوری نہیں کر رہا تھا، بلکہ: پولٹری فارم چلا رہا تھا اسٹور اور ہوٹل کے کاروبار کے مالک تھا آن لائن کاروبار اور ٹریڈنگ کے ذریعے مالی آزادی حاصل کر چکا تھا گھر والے اب بھی اسے روزانہ مزدور سمجھتے، کیونکہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ سکندر راتوں کو کیا کر رہا ہے۔ ایک دن سکندر نے فیصلہ کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے والدین کو حقیقت بتائے۔ اس نے کہا: "اب میں مزدوری نہیں کرتا، میں کاروباری شخص ہوں۔" اس کے والد نے حیرت سے پوچھا: "بیٹا، یہ سب کب اور کیسے شروع کیا؟" سکندر نے مسکرا کر کہا: "چھ سال پہلے، جب میں نے آپ کو بتایا کہ میں کاروبار کرنا چاہتا ہوں، تب ہمارے پاس پیسہ نہیں تھا۔ تب سے میں دن میں مزدوری کرتا اور رات کو محنت کرتا رہا۔ آج میں روزانہ پانچ لاکھ سے زیادہ کماتا ہوں۔" اس کے والد نے پوچھا: "پھر ہمیں کیوں نہیں بتایا؟" سکندر نے جواب دیا: "اگر میں آپ کو بتاتا تو آپ مجھے اجازت نہیں دیتے۔ اور آج بھی میں اسی بیس سے پچیس ہزار کی نوکری میں ہوتا۔ اب دیکھیں، میرے ملازم بھی پچاس ہزار کماتے ہیں۔ ہمارے غربت کے دن ختم ہو گئے۔ میرا مقصد پورا ہو گیا۔" سکندر کا سبق ہر شخص کے اندر ایک مقصد ہوتا ہے، بس اسے تلاش کرنے کی دیر ہوتی ہے۔ زندگی کے دوسرے مواقع قیمتی ہوتے ہیں، ان کا فائدہ اٹھائیں۔ محنت خاموشی سے کریں، کامیابی خود بولے گی۔ لوگوں کی سوچ آپ کی حقیقت نہیں ہوتی، اپنے راستے پر قائم رہیں۔ خلاصہ اور حتمی پیغام: سکندر کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ: "کبھی ہار نہ مانو، محنت کرو، اور مقصد کے ساتھ آگے بڑھو۔ کامیابی شور کرے گی، آپ نہیں۔"

Comments

Popular posts from this blog

The Story of Sk and KT

Silence, Struggle, Success –

The Last Human Programmer