Sk aur KT ki Kahani

Sk aur KT ki Kahani Sk اور KT ایک ہی گاؤں میں رہتے تھے۔ گاؤں چھوٹا سا تھا جہاں سب لوگ ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے۔ بچپن سے ہی دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے آ رہے تھے، مگر اس وقت ان کے درمیان کوئی خاص دوستی نہیں تھی۔ کبھی کبھار راستے میں ملاقات ہو جاتی تو بس سلام دعا اور دو چار باتیں ہو جاتیں۔ وقت گزرتا گیا اور زندگی آگے بڑھتی گئی۔ پھر ایک وقت ایسا آیا جب دونوں کی بات چیت زیادہ ہونے لگی اور آہستہ آہستہ ان کے درمیان دوستی بن گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ دوستی اتنی مضبوط ہو گئی کہ گاؤں کے لوگ بھی مثال دینے لگے کہ Sk اور KT کی دوستی بہت گہری ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب آ چکے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ ایک دوسرے کے بغیر رہ ہی نہیں سکتے۔ لیکن اس دوستی کے پیچھے ایک حقیقت چھپی ہوئی تھی جسے زیادہ تر لوگ نہیں جانتے تھے۔ Sk مزاج کا کچھ تیز تھا۔ اگر کسی بات پر غصہ آ جاتا تو وہ فوراً ظاہر ہو جاتا تھا، مگر دل کا وہ بہت صاف اور اچھا انسان تھا۔ وہ اپنے ہر دوست کی عزت کرتا تھا اور کبھی کسی کو شک کی نظر سے نہیں دیکھتا تھا۔ اسے اپنے دوستوں پر پورا بھروسا تھا۔ Sk کا ماننا تھا کہ اگر انسان دوستی کرے تو دل سے کرے۔ اگر کبھی کسی بات پر ناراض ہو جاتا تو زیادہ دیر تک ناراض نہیں رہتا تھا۔ وہ خود ہی دوست کو منا لیتا تھا۔ اس نے کبھی دوستی کے درمیان انا (Ego) کو آنے نہیں دیا۔ وہ ہمیشہ یہی سوچتا تھا کہ دوستی میں ضد اور انا کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ دوسری طرف KT کا مزاج بالکل مختلف تھا۔ KT کی زندگی میں بہت سی تلخیاں تھیں۔ وہ بہت جذباتی انسان تھا۔ دوستوں کی چھوٹی چھوٹی باتیں بھی دل پر لے لیتا تھا۔ اگر کوئی مذاق بھی کر دیتا تو وہ اسے سنجیدگی سے لے کر ناراض ہو جاتا تھا۔ اس کی ایک اور عادت یہ تھی کہ اسے ہمیشہ لگتا تھا کہ شاید اس کے دوست ایک دن اسے دھوکہ دے دیں گے۔ اسی وجہ سے KT کی دوستی کسی کے ساتھ زیادہ دیر نہیں چلتی تھی۔ زیادہ سے زیادہ ایک سال، پھر کسی نہ کسی بات پر جھگڑا ہو جاتا اور دوستی ختم ہو جاتی۔ لیکن جب Sk اس کا دوست بنا تو معاملہ مختلف تھا۔ Sk نے KT کی بہت سی باتوں کو نظر انداز کیا۔ اگر KT کسی وجہ سے ناراض ہو جاتا تو Sk فوراً اسے منا لیتا تھا۔ چاہے غلطی KT کی ہی کیوں نہ ہوتی، Sk ہمیشہ یہی کہتا: “کوئی بات نہیں، دوستوں کے درمیان یہ سب ہوتا رہتا ہے۔” Sk اکثر KT کو سمجھاتا تھا کہ انسان کو اتنا جذباتی نہیں ہونا چاہیے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر نہیں لینا چاہیے۔ مگر KT اکثر اس بات کو سن کر خاموش ہو جاتا اور پھر کچھ دن بعد ویسا ہی رویہ اختیار کر لیتا۔ اس سب کے باوجود ان کی دوستی چلتی رہی، اور اس کی سب سے بڑی وجہ Sk کا صبر تھا۔ پانچ سال تک سب کچھ ٹھیک چلتا رہا۔ مگر پھر ایک دن ایسا آیا جس نے اس دوستی کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک دن KT کو ایک نیا دوست ملا۔ وہ دوست اسے بہت اچھا لگنے لگا اور وہ زیادہ وقت اسی کے ساتھ گزارنے لگا۔ آہستہ آہستہ KT نے Sk کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ پھر ایک دن ایسا آیا جب KT نے اپنے اسی نئے دوست کی خاطر Sk کو چھوڑ دیا۔ Sk نے اسے بہت سمجھانے کی کوشش کی۔ اس نے کہا: “اگر میں نے کوئی غلطی کی ہے تو بتاؤ، ہم بیٹھ کر بات کر لیتے ہیں۔” مگر KT نے اس کی بات نہیں سنی اور اس کے ساتھ جانے کے بجائے اپنے نئے دوست کے ساتھ چلا گیا۔ اس دن Sk کا دل ٹوٹ گیا۔ وہ خاموشی سے گھر واپس آ گیا۔ اس کے ذہن میں بار بار یہی سوال آ رہا تھا کہ جس انسان کے لیے وہ ہمیشہ سب کچھ برداشت کرتا رہا، وہ آج اسے بیچ راستے میں چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ چلا گیا۔ پھر بھی Sk کے دل میں امید باقی تھی۔ وہ سوچتا تھا کہ شاید KT کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اور وہ واپس آ جائے۔ کچھ دن بعد Sk خود ہی KT کے پاس گیا اور اس سے بات کرنے کی کوشش کی۔ مگر KT کے رویے میں اب غرور آ چکا تھا۔ وہ یہ سمجھنے لگا تھا کہ Sk اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسی غرور کی وجہ سے اس نے Sk کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ اب KT اپنے نئے دوستوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے لگا۔ شروع میں وہ بہت خوش تھا۔ اسے لگتا تھا کہ اسے پہلے سے بہتر دوست مل گئے ہیں۔ لیکن وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ کچھ مہینوں بعد اس کے وہ نئے دوست بھی اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ اب KT ایک بار پھر اکیلا رہ گیا۔ اسی تنہائی میں اسے اچانک Sk کی یاد آئی۔ اسے وہ تمام لمحے یاد آنے لگے جب Sk نے ہر بار اسے منایا تھا، ہر بار اس کی غلطیوں کو نظر انداز کیا تھا۔ آخرکار KT نے Sk سے رابطہ کیا۔ اس نے Sk سے کہا: “دنیا میں سب لوگ بے وفا ہیں۔ کوئی بھی سچا دوست نہیں ہوتا۔” یہ سن کر Sk کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا: “تم ایسا کیسے کہہ سکتے ہو؟ تم نے بھی تو ایک بار مجھے کسی اور کے لیے چھوڑ دیا تھا۔” یہ بات سن کر KT کو غصہ آ گیا۔ اسے لگا کہ Sk اسے طعنے دے رہا ہے۔ وہ ناراض ہو کر وہاں سے چلا گیا۔ لیکن اس بار Sk نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ Sk نے دل میں فیصلہ کر لیا تھا کہ اب وہ KT کو نہیں منائے گا۔ اسے احساس ہو چکا تھا کہ ایسی دوستی کا کوئی فائدہ نہیں جس میں صرف ایک انسان ہی سب کچھ برداشت کرتا رہے۔ کچھ وقت بعد جب KT کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے دوبارہ Sk سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ مگر اس بار بہت دیر ہو چکی تھی۔ Sk پہلے ایسا انسان تھا جو کبھی ناراض نہیں ہوتا تھا۔ مگر اگر ایک بار دل سے ناراض ہو جاتا تو پھر ہمیشہ کے لیے دور ہو جاتا تھا۔ KT کی بے وفائی کے بعد Sk نے کبھی کسی کو اپنا قریبی دوست نہیں بنایا۔ وہ اپنی زندگی میں اکیلا رہ گیا۔ اور آخر میں KT بھی اکیلا رہ گیا۔ دونوں کی زندگی الگ الگ راستوں پر چل پڑی، مگر دونوں کے دل میں ایک خلا ہمیشہ باقی رہا۔ نتیجہ دوستی ایک بہت قیمتی رشتہ ہے۔ اگر اس کے درمیان انا، غرور یا کوئی تیسرا شخص آ جائے تو دوستی اپنی اصل شکل کھو دیتی ہے۔ اس لیے ہمیشہ Sk جیسے بنو، جو دوستی کو دل سے نبھاتے ہیں۔ اور KT جیسے لوگوں سے دور رہو، کیونکہ انا اور شک ہمیشہ انسان کو اکیلا کر دیتے ہیں۔ زندگی تب ہی آسان گزرتی ہے جب رشتوں میں سچائی اور خلوص ہو۔ 🥀

Comments

Popular posts from this blog

The Story of Sk and KT

Silence, Struggle, Success –

The Last Human Programmer